ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد سے بھی نیچے آ گیا، خرم شہزاد

اسلام آباد۔12مئی (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے، بنیادی سرپلس، بیرونی کھاتوں کی مضبوطی اور مجموعی معاشی استحکام میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔منگل کویہاں سماجی رابطہ کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی مالیاتی صورتحال میں ایک بڑی ڈھانچہ جاری تبدیلی سامنے آ رہی ہے، تازہ ترین مالیاتی اعداد و شمار نہ صرف بہتر معاشی نظم و نسق بلکہ مضبوط معاشی بنیادوں اور پائیدار ترقی ونمو کی بھی عکاسی کر رہے ہیں، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مالیاتی خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے ایک فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے، بنیادی سرپلس، بیرونی کھاتوں کی مضبوطی اور مجموعی معاشی استحکام میں بھی نمایاں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ جاری مالی کے پہلے نو ماہ کے دوران پاکستان کا مالیاتی خسارہ کم ہو کر جی ڈی پی کے صرف 0.7 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ شرح 2.6 فیصد تھی۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک ریکارڈ کیا جانے والا سب سے کم مالیاتی خسارہ ہے، اسی طرح مالی سال کے پہلے 9ماہ میں بنیادی سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک پہنچ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں بھی 3 فیصد کا غیرمعمولی سرپلس ریکارڈ کیا گیا تھا

جو محتاط اور نظم و ضبط پر مبنی مالیاتی پالیسیوں کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے یہ صورتحال سرکاری مالیات میں بہتری، معاشی استحکام اور اقتصادی بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح اور مجموعی ریونیو ٹو جی ڈی پی کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ٹیکس وصولیوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو حالیہ برسوں کی مضبوط ترین کارکردگیوں میں شمار ہو رہا ہے ، اس بہتری کی بڑی وجوہات میں مسلسل اصلاحات، بہتر ٹیکس تعمیل، ڈیجیٹلائزیشن اور مالیاتی نظم و نسق میں بہتری شامل ہیں۔ خرم شہزادنے کہاکہ عالمی سطح پر مہنگائی کے دبائو اور ماضی کے قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود مجموعی حکومتی اخراجات کو موثر انداز میں قابو میں رکھا گیا ہے، جاری اخراجات میں استحکام برقرار رکھا گیا جبکہ ترقیاتی اخراجات کو بھی برقرار رکھا گیا تاکہ طویل المدتی اقتصادی ترقی کو سہارا دیا جا سکے ، دفاعی اخراجات کا جی ڈی پی میں تناسب بھی مجموعی طور پر قابو میں رہا جسے مالیاتی نظم و ضبط کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلسل بنیادی سرپلسز کے باعث پاکستان کے قرضوں کے ڈھانچے میں بہتری آ رہی ہے اور حکومت کی مالیاتی پائیداری مضبوط ہو رہی ہے۔ سرکاری قرضوں کے تناسب میں بتدریج کمی آ رہی ہے، قرضوں کی ری فنانسنگ سے متعلق خطرات کم ہو رہے ہیں

جبکہ قرضوں کی مدت ادائیگی کے ڈھانچے میں بھی بہتری دیکھی جا رہی ہے،مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کے اس عمل سے معیشت کی کمزوریاں کم ہو رہی ہیں اور طویل المدتی معاشی استحکام کی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو تاریخی طور پر مالیاتی اور بیرونی کھاتوں کے دوہرے خسارے کا سامنا رہا ہے تاہم جاری مالی سال کے پہلے 9ماہ میں دونوں شعبوں میں ایک ساتھ بہتری سامنے آئی ہے۔ اس پیش رفت سے مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، شرح مبادلہ میں استحکام، مہنگائی میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کو تقویت مل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اب سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی صورت میں بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔ ملک نے کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک دوبارہ رسائی حاصل کی ہے جبکہ مینوفیکچرنگ، کارپوریٹ منافع، غیرملکی سرمایہ کاری اور حصص فروخت کی ابتدائی عوامی سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے،عالمی مالیاتی ادارے، ریٹنگ ایجنسیاں اور بین الاقوامی سرمایہ کار بھی پاکستان کی مالیاتی اور بیرونی شعبے کی بہتر ہوتی بنیادوں کو تسلیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ مالیاتی اور بیرونی دونوں خساروں میں بیک وقت بہتری پاکستان کو عالمی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ مستحکم اور قابل اعتماد معیشت کے طور پر سامنے لا رہی ہے۔