اسلام آباد۔28اپریل (اے پی پی):پاکستان نے کمبوڈیا میں زیرِ حراست پاکستانیوں کا معاملہ کمبوڈین حکومت کے ساتھ فعال طور پر اٹھایا ہے،یہ اقدام نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کی ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے، جن میں بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا تھا۔کمبوڈیا میں زیر حراست پاکستانیوں سےمتعلق ایک میڈیا سوال کے جواب میں منگل کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہاکہ کمبوڈیا میں پاکستان کے سفارت خانے نے اس معاملے کو کمبوڈین حکومت کے ساتھ فعال طور پر اٹھایا ہے۔ یہ اقدام نائب وزیرِ اعظم/وزیرِ خارجہ کی ہدایات کے مطابق کیا گیا ہے، جن میں بیرونِ ملک پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے پر زور دیا گیا تھا۔
سفارت خانے کی کاوشوں کے نتیجے میں میزبان حکام نے سیام ریپ صوبے میں زیرِ حراست 54 پاکستانی شہریوں کی جلد وطن واپسی پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ افراد ایک جعلی اسکیم (اسکیمنگ کمپاؤنڈ) پر چھاپے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے سفارتی عملے کی جانب سے زیرِ حراست پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، یہ افراد پرواز کے انتظامات مکمل ہوتے ہی کمبوڈیا سے وطن واپسی کیلئے روانہ ہو جائیں گے۔ کمبوڈین حکام کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر ان افراد کو “آن لائن دھوکہ دہی کے خلاف قانون” کے تحت کسی قانونی کارروائی کے بغیر واپس بھیجا جائے گا۔
یہ قانون 7 اپریل 2026 کو نافذ ہوا تھا، جس کے تحت سخت قید کی سزائیں اور بھاری جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔