جنیوا ۔3مارچ (اے پی پی):انٹرنیشنل ایکشن فار پیس اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ نے اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقع پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مذاکرے کے مقررین نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں شہری آزادیوں پر جاری مسلسل قدغن پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ مذاکرے کی صدارت معروف انسانی حقوق کے کارکن اور آئی اے پی ایس ڈی کے سربراہ سردار امجد یوسف نے کی جبکہ عالمی ماہرین قانون اور نمائندگان نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال کے قانونی، سیاسی اور تکنیکی پہلوﺅں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے واضح کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں رائج کالے قوانین بشمول پبلک سیفٹی ایکٹ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قوانین کے تحت کشمیریوں کی طویل المدتی حراست، اختلافِ رائے کو جرم قرار دینا اورقابض فورسز کو کشمیریوں کے قتل عا م کی کھلی چھوٹ سے بنیادی انسانی حقوق پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
مقررین نے انٹرنیٹ سروسز کی طویل بندش، نجی رابطہ جاتی ذرائع پر پابندیاں اور سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی کو شہری سرگرمیوں اور آزادی صحافت کو محدود کرنے کا منظم طریقہ قرار دیا ۔مذاکرے میں میڈیا اداروں پر دباﺅ، صحافیوں کی گرفتاریوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں بشمول خرم پرویز کی مسلسل نظربندی پر بھی تشویش ظاہر کی ۔ حیاتیاتی شناختی نظام، چہرہ شناس ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی کو ایسے رجحانات کے طور پر بیان کیا گیا جو وسیع تر شہری آزادیوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔شرکا نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو مقبوضہ جموں و کشمیر تک فوری، آزادانہ اور موثر رسائی دینے ،پرامن اختلافِ رائے کی بنیاد پرگرفتار کئے گئے کشمیریوں کی رہائی اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کے تحت بھارت سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مکمل پاسداری یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ۔
یاد رہے کہ یہ مذاکرہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس کے موقع پر منعقد کیا گیا تاکہ کشمیری عوام کے شہری حقوق سے متعلق معاملات کو عالمی سطح پر موثر انداز میں اجاگر کیا جا سکے۔