سرینگر، امریکہ اور اسرائیل مخالف مظاہروں کی کوریج پر میڈیا اداروں اورصحافیوں کےخلاف مقدمات درج

سرینگر ۔3مارچ (اے پی پی):غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں آزادی صحافت اورآزادی اظہار پرجاری قدغن کے دوران بھارتی پولیس نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سیدعلی خامنہ ای کی شہادت کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہروں کی رپورٹنگ کرنے پربعض میڈیا اداروں اورصحافیوں کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقدمات میں ملوث مخصوص اداروں اور افراد کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئی ہیں۔ یہ مقدمات سائبر پولیس اسٹیشن سرینگر میں درج کئے گئے ہیں۔ مبصرین نے صحافیوں کے خلاف مقدمات کے اندراج کو آزادی صحافتی کو دبانے کاایک ہتھکنڈہ قراردیاہے۔قابض حکام نے میڈیا تنظیموں کو ایڈوائزری نوٹس بھی جاری کیے اور رپورٹرز پر زور دیا کہ وہ احتجاجی مظاہروں اور فورسز کی طرف سے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کے بارے میں رپورٹس شائع کرنے سے گریز کریں۔

صحافیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ تمام رپورٹس کی تصدیق معتبر اور مستند ذرائع سے کی جائے ۔صحافیوں اور میڈیا آئوٹ لیٹس پر کریک ڈان ایک ایسے وقت میں کیاگیاہے جب وادی کشمیر میں ایران میں امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف زبردست مظاہرے کئے گئے ۔ مظاہرین کو کرفیو جیسی پابندیوں، سڑکوں پر رکاوٹیں، بڑی تعداد میں پیراملٹری اور پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور انٹرنیٹ سروسز پر پابندی سامنا کرنا پڑا۔پولیس نے متعدد افراد کو بھارتی سائبر سیل میں طلب کر کے پوچھ گچھ کی گئی ہے۔