مقبوضہ جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے تعلیمی ادارے 7 مارچ تک بند

سرینگر ۔3مارچ (اے پی پی):غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے قابض حکام نے تمام تعلیمی ادارے 07 مارچ تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ جموں وکشمیرکی وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے ایک میڈیا انٹرویو میں بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 07 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور علاقے کی زمینی صورتحاٍل کا جائزہ لینے کے بعد ہی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیاجائے گا۔

ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پورے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے۔ سرینگر کے مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال اور لاٹھی چارج سے ایک درجن سے زائد مظاہرین زخمی ہو گئے۔ مزید مظاہروں کو روکنے کے لیے سرینگر اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے دیگر علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔