اسلام آباد۔25فروری (اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے معاشی ترقی کے لئے اقتصادی اصلاحات کو وقت کا اہم تقاضا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مجموعی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، برآمدات میں اضافہ کی بے پناہ گنجائش ہے، بجٹ میں براہ راست ٹیکسوں میں کمی لانا ہوگی،200 ارب روپے کی بجلی چوری کی روک تھام کرنا ہو گی ،مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر ساڑھے 10 فیصد پر ہے، آئی ٹی برآمدات میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے،دو سالوں میں بجلی کی قیمت ساڑھے آٹھ ،9 روپے فی یونٹ کم ہوئی ہے،پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلٹی سٹور جیسے اداروں کے خاتمے سے خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے ، نوجوانوں کو عصر حاضر کے علوم سے لیس کریں گے،صوبے، وفاق اور عسکری قیادت مل کر ملکی ترقی کے لئے کام کریں تو ملک کی جلد قسمت جلد بدل جائے گی،اڑان پاکستان پر عمل کر کے ملک ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو یہاں پاکستان گورننس فورم 2026 کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں وفاقی وزراء ارکان پارلیمنٹ، پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے پاکستان گورننس فورم کے کامیاب انعقاد پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کو مبارکباد دی اور کہا کہ اڑان پاکستان پروگرام کو احسن اقبال بہترین انداز میں چلا رہے ہیں ،اس سے پاکستان کامیابی کے جھنڈے گاڑے کا ۔ انہوں نے کہا کہ جون 2023ء میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے دہانے پر تھا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور بھرپور محنت سے ہم دیوالیہ ہونے سے بچ گئے اور دو سالوں میں میکرو اقتصادی صورتحال ٹیم ورک کے نتیجے میں مستحکم ہوئی ہے، اس میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کا سیاسی اور عسکری قیادت کا اہم کردار ہے،مشترکہ کاوشوں سے ملک کو معاشی بہتری کی جانب گامزن کیا گیا ہے ،ہماری مجموعی اقتصادی صورتحال ماضی کے مقابلے میں حوصلہ افزا ءہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے افراط زر کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی ،آج وہ سنگل ڈیجٹ پر ہے، پالیسی ریٹ جو کچھ عرصہ پہلے 22 فیصد تھا آج ساڑھے 10 فیصد تک آ گیا ہے تاہم برآمدات کو جس رفتار سے بڑھنا چاہئے تھا اس رفتار سے تو نہیں بڑھیں لیکن ان میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے اور اضافے کی بے پناہ گنجائش ہے ،ہم بھرپور کوششیں کریں گے تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ،مزید محنت کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔
اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط ہیں لیکن بعض اصلاحات ہماری اپنی ہیں جن سے آئی ایم ایف کا کوئی تعلق نہیں ہے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ان پر عمل کریں ،اقتصادی اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں مختلف ٹیکس شامل تھے جن میں کراس سبسڈی بھی تھی اس کو ختم کیا گیا ہے اور دو سالوں میں بجلی کی قیمت ساڑھے آٹھ ،9 روپے فی یونٹ کم ہوئی ہے ،سولر کے حوالے سے جائز موقف سنا گیا جو سولر پلانٹس لگ چکے ہیں اور جو سرمایہ کاری کر چکے ہیں انہیں ہم نےتحفظ فراہم کیا ہے اور جو آئندہ لگانا چاہیں گے وہ نئے نظام کے تحت لگا سکتے ہیں، بجلی کے شعبے میں بہتری کے لئے بھرپور کوششوں کا کریڈٹ وفاقی وزیر بجلی اویس احمد خان لغاری اور ان کی ٹیم کو جاتا ہے لیکن 200 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے اس پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے، اسی طرح کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے حوالے سے ہم نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں لیکن مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کرپشن کا گڑھ تھی ،اس کا ہم نے مکمل خاتمہ کیا ہے ،گزشتہ سال رمضان المبارک میں حقداروں تک ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ذریعے رقوم پہنچائی گئیں
رواں سال رمضان میں 38 ارب روپے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے پورے ملک میں لوگوں کو گھروں تک پہنچا رہے ہیں ،اس سے لوگوں کو نہ تو لائنوں میں کھڑا ہونا پڑا ہے اور نہ ہی ان کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے اور نہ ہی غیر معیاری اشیاء مل رہی ہیں ۔وزیراعظم نے کہا کہ پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلٹی سٹور جیسے اداروں کے خاتمے سے خزانے پر بوجھ کم ہوا ہے اور اربوں روپے تنخواہوں اور کرپشن میں جا رہے تھے ان کا خاتمہ ہوا ہے،پی ڈبلیو ڈی سے ناپاک ادارہ پاکستان میں کوئی تھا ہی نہیں اس کا بھی مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ہے ،پی ڈبلیو ڈی کے حوالے سے بہت سی سفارشیں آئیں لیکن میں نے انہیں رد کر دیا اور سب کو سرپلس پول میں بھجوا دیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کاروباری پہیہ چلانے کے لئے اہم اقدامات کئے گئے ہیں،یہ ایک بڑا چیلنج اور کٹھن سفر ہے جسے ہم نے طے کرنا ہے ،چیلنج کو ہم نے قبول کیا ہے ،وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کی حکومتیں مل کر دن رات محنت سے چلتے رہیں تو میرا ایمان ہے کہ پاکستان بہت جلد اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری کے ساتھ حال ہی میں میری بے شمار ملاقاتیں ہوئی ہیں ،ان سے مشاورت کی ہے اور کئی فیصلے ان کی مشاورت کی روشنی میں کئے گئے ہیں ، کاروبار کرنا حکومت کا کام نہیں ہے
کاروبار چلانا کاروباری افراد کا کام ہے، حکومت کا کام انہیں سہولت فراہم کرنا ہے حالیہ دنوں میں ایک بھرپور کانفرنس میں پاکستان کے بڑے برآمد کنندگان کی پذیرائی کی گئی اور انہیں ٹرافیاں دی گئیں اور دو سال کے لئے بلیو سپورٹس دیئے گئے ہیں ،ایکسپورٹ ری فنانس سکیم کے تحت ساڑھے سات فیصد کی شرح کو تین فیصد کم کر کے ساڑھے چار فیصد کر دیا ہے،بجلی کی قیمت میں بھی چار روپے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے ،مزید محنت کر کے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے، برآمدات میں اضافے کے لئے بے پناہ گنجائش موجود ہے ،ملک میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے ،اگر ہم عزم کر لیں تو پاکستان چند سالوں میں بہت سے ملکوں کو پیچھے چھوڑ جائے گا ،چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر دن رات محنت کریں گے ،پاکستان کے پاس وہ وسائل ہیں جو دنیا کے کئی ممالک کے پاس نہیں ہیں،لائیوسٹاک اور ڈیری فارمنگ کے شعبے میں پاکستان کے پاس بہت صلاحیت ہے، ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں گے ،سندھ، پنجاب خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بہت استعداد ہے ،لائیو سٹاک اور ڈیری فارمنگ کی عالمی تجارت میں ہمارا حصہ بہت کم ہے
اسے بڑھانا ہوگا ،ہمیں تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح ساڑھے 10 فیصد ہے جو دو سال پہلے تقریبا 9 فیصد تھی،جب تک گروتھ نہیں ہوگی اور پیداوار نہیں بڑھے گی ،برآمدات نہیں بڑھیں گی سرمایہ کاری نہیں لائیں گے تو ٹیکس کتنا لگاتے جائیں گے ،ہمیں آئندہ بجٹ میں براہ راست ٹیکسوں میں کمی لانا ہوگی تاکہ کاروباری برادری کو پتہ چلے کہ ان کا سرمایہ ٹیکس کی نذر نہیں ہو جاتا لیکن بالواسطہ ٹیکسز بعض کاروباری افراد جمع نہیں کراتے ،صارفین سے لئے جاتے ہیں وہ صارفین سے لے کر جیب میں ڈال لئے جائیں تو اس سے بڑی قوم کے ساتھ ظلم اور زیادتی کوئی نہیں ہو سکتی،شوگر، سیمنٹ اور تمباکو کے شعبے بالواسطہ ٹیکس عدم ادائیگی میں سر فہرست ہیں،شوگر انڈسٹری میں 2024 کے مقابلے میں سیلز ٹیکس کی وصولی میں گزشتہ سال 36 ارب روپے اور سیمنٹ انڈسٹری میں 60 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے،اسی طرح تمباکو اور دیگر شعبوں سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے ،اگر ٹیکس جمع نہیں ہوں گے تو قرضے کیسے اتریں گے ،اس صورتحال کا اچھی طرح ادراک ہونا چاہئے ،ہم یکسوئی کے ساتھ دن رات کوشش کر رہے ہیں
یہ ٹیم ورک ہے، صوبے، وفاق اور عسکری قیادت مل کر ملکی ترقی کے لئے کام کریں گے تو ملک کی جلد قسمت جلد بدل جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے مختلف ممالک کے دورے کئے ہیں، دوست اور برادر ممالک کا بھی دورہ کیا ہے ،وہاں سے یہ پیغام ملا ہے کہ آپ کے قرضے رول اوور کر رہے ہیں ہم ان کا شکریہ تو ادا کرتے ہیں لیکن کیا ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے۔ہماری کامیابی دوست ممالک سے قرضوں کی ری شیڈولنگ کی بجائے کاروباری معاہدوں میں ہے، وہ وقت آنے والا ہے کہ ملک میں انویسٹمنٹ آئے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی کے شعبے میں بے پناہ گنجائش موجود ہے، آئی ٹی کی برامدات میں 34 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ،وفاقی وزیر آئی ٹی اور سیکرٹری آئی ٹی اور ان کی پوری ٹیم دن رات محنت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوجوان آبادی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہے،اسے ہم فنی اور پیشہ وارانہ تربیت فراہم کریں گے، مل کر ہم انہیں باختیار بنائیں گےاور عصر حاضر کے تکنیکی علوم سے لیس کریں گے،ہنر مند نوجوانوں کی شمولیت سے ہماری زراعت، صنعت اور تمام شعبے ترقی کریں گے ،نوجوانوں کے لئے مختلف پروگراموں پر عمل جاری ہے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر حسن اقبال کو ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کو عملی شکل دیں اس سے پاکستان کی معیشت کئی ٹریلین ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔تقریب سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کے ہمراہ پی ایس ڈی پی ڈیٹا پورٹل کا اجراء بھی کیا۔