جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین آزاد اور منصفانہ طریقے سے کرنے کا حق حاصل ہے، ڈاکٹر سید نذیر گیلانی

اسلام آباد۔22دسمبر (اے پی پی):انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) کے زیر اہتمام اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی نشست بعنوان ’’اقوام متحدہ کے سانچے کے تحت کشمیر کے مسئلہ کا حل‘‘ کے شرکاء نے کہا ہے کہ بھارت نے 1948ء میں کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کے سامنے پیش کرکے خود بین الاقوامی سطح پر اس مسئلہ کو اجاگر کیا، اپنے موقف میں بھارت نے خود جموں و کشمیر کے عوام کی پاکستان سے الحاق یا آزاد ریاست کا انتخاب کرنے کی خواہش کو تسلیم کیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اس کیس کے دائرہ اختیار کو بلا شرط قبول کیا، اس اقدام سے کشمیر کا مسئلہ قانونی طور پر اقوام متحدہ کے حق خود ارادیت کے فریم ورک میں منسلک ہو گیا اور بھارت کے تمام یکطرفہ اقدامات خاص طور پر 5 اگست 2019ء کے بعد کیے گئے اقدامات غیر قانونی ،ناجائز اور کشمیری عوام کی مرضی کے خلاف قرار پاتے ہیں۔

یہ باتیں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز (آئی پی ایس) اسلام آباد میں منعقدہ خصوصی نشست بعنوان ’’اقوام متحدہ کے سانچے کے تحت کشمیر کے مسئلہ کا حل‘‘ کے دوران کی گئیں۔ اس نشست میں صدر جموں کشمیر کونسل برائے انسانی حقوق ڈاکٹر سید نذیر گیلانی،چیئرمین آئی پی ایس خالد رحمٰن، سابق وزیر آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) فرزانہ یعقوب اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیلاگ، ڈویلپمنٹ اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیز ڈاکٹر ولید رسول نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کشمیر کے تنازع کو سمجھنے میں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے میکانزم کی مرکزی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری انسانی المیے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے بنیادی اصول یعنی حق خود ارادیت بھی شدید نقصان کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 1(2) کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے سیاسی مستقبل کا تعین آزاد اور منصفانہ طریقے سے کرنے کا حق حاصل ہے۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے مزید کہا کہ برطانیہ اور امریکہ نے تاریخی طور پر ثالثی کی پیشکش کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تھی جس میں معاملے کو بین الاقوامی عدالت انصاف کے حوالے کرنے کی تجاویز بھی شامل تھیں تاہم اس راستے کو ممکن بنانے کے لیے پاکستان کو آزاد جموں و کشمیر میں ادارہ جاتی مہارت اور سیاسی انتظامات کو فروغ دینا ہوگا۔

اسی طرح ترقی اور بہترین حکمرانی کے ساتھ ساتھ حکومت آزاد کشمیر کو بین الاقوامی فورمز پر اپنے قانونی اور سیاسی اختیار کو فعال طور پر پیش کرنا چاہیے۔ ایک ممکنہ راستہ یہ ہے کہ بھارت کے غیر قانونی اقدامات اور اقوام متحدہ کے فریم ورک کی وسیع خلاف ورزیوں کو چیلنج کرنے کے لیے اصول استرداد (پرنسپل آف ریسٹیٹیوش) کو بروئے کار لایا جائے۔ فرزانہ یعقوب نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے زیادہ موثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتیں اپنے آئینی فریم ورک کے تحت دستیاب قانونی اور سیاسی اختیارات کو مکمل طور پر استعمال کریں تاکہ مختلف فورمز پر کشمیر کے کیس کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اختتامی کلمات میں خالد رحمٰن نے کہا کہ کشمیر نہ تو محض دوطرفہ یا علاقائی مسئلہ ہے اور نہ ہی صرف انسانی حقوق کا معاملہ، بلکہ یہ ایک بین الاقوامی تنازع ہے جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کیا اور اپنی قراردادوں کے ذریعے اس کی توثیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنے موقف کو تاریخی حقائق پر مضبوط بنیاد رکھ کر تقویت دینا ہوگی۔ مزید برآں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی کیس بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ایک مضبوط قانونی کیس تیار کرنا ہوگا جو تنازع کے حل کے لیے بنیادی فریم ورک کے طور پر کام کرے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کے لیے بھارت کی پوزیشن میں کمزوریوں کو اجاگر کرنا اور بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے کیس کی قانونی حیثیت کو مسلسل مضبوط بنانا ضروری ہے۔

اشتہار