مریم نوازسے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کی ملاقات،وزیراعلی نے حکومت پنجاب کے عوامی فلاح وبہبوداقدامات سے آگاہ کیا

لاہور۔22نومبر (اے پی پی)-:وزیراعلی پنجاب مریم نوازسے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی27ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے ملاقات کی۔وزیراعلی نے این ڈی یو کے وفد کا پر تپاک خیرمقدم اور حکومت پنجاب کے عوامی فلاح وبہبود کے پراجیکٹس واقدامات سے آگاہ کیا ۔وزیراعلی نے شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے۔نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء نے حکومت پنجاب کے فلاحی اقدامات کو سراہا۔مریم نوازنے کہاکہ آپریشن بنیان مرصوص میں کامیابی کے بعد پاکستان دنیا میں ہر مقام پر سربلند ہے، پنجاب میں بہت کچھ کرچکے اوربہت کچھ ہونے جارہا ہے،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیراعلی نے کہاکہ احتساب نہ ہونے پر پبلک سیکٹر میں پرفارمنس زیرو ہوجاتی ہے، سیلاب کے اثرات کا سامنا کررہے ہیں،سیلاب کے دوران نہ صرف لاکھوں افراد بلکہ مویشیوں کو بھی بچایا گیا، بروقت طبی امدادسے متعدی امراض کے پھیلائو سے محفوظ رہے۔

وزیراعلی مریم نواز نے کہاکہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے،بہتری کیلئے پاکستان کی کاوشوں کو دنیا بھر میں پذیرائی ملی، پنجاب میں سموگ کنٹرول کرنے کیلئے انتھک محنت کی گئی، سموگ گن سپرے،فصلوں کی باقیات جلانے پر کنٹرول اوردیگر اقدمات کی وجہ سے سموگ کا اثر کم ہوا،سرحد پار سے فصلیں جلانے کے اثرات لاہور پر آتے ہیں۔اسی طرح ایئر کوالٹی مانیٹرنگ انوائرمنٹ فورس اوربھٹوں پر زگ زیگ ٹیکنالوجی کی وجہ سے بہتری آرہی ہے،کالادھواں اڑنے پر ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے ذریعے فوری نشاندہی ممکن ہے۔ وزیراعلی نے کہاکہ ووٹ نہ ملنے کا ڈر ہو تو کوئی اچھا کام نہیں کیا جا سکتا،تجاوزات اٹھانے پر لوگ ناراض بھی ہوئے، میرٹ کا نفاذ اورسفارش کی نفی ہمارا نصب العین ہے،پنجاب میں میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی،سیاسی بنیاد پر کوئی بھرتی نہیں کی گئی، کوئی کہہ دے کہ میں نے کسی کی سفارش کی ہے تو استعفی تک دے سکتی ہوں۔

انہوں نے کہاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین وزرا، سیکرٹری، کمشنر،ڈی سی اورڈی پی او کام کررہی ہیں، مریم اورنگزیب،عظمی بخاری،ثانیہ عاشق،سلمی بٹ بہت محنتی اوراچھاکام کررہی ہیں،میرٹ،شفافیت اوربروقت فیصلہ سازی گڈگورننس کے رہنما اصول ہیں، بروقت فیصلہ سازی کیلئے ہمت اورپھر قابلیت بھی درکار ہوتی ہے۔ وزیراعلی مریم نواز نے کہاکہ ڈیپارٹمنٹس کی کارکردگی کا جا ئزہ لینے کیلئے وزراء اورسیکرٹریز کے 6،6گھنٹے کے میراتھن سیشن ہورہے ہیں،سرکاری طورپر گندم نہ خریدنے سے کسان نہیں مڈل مین فائدہ اٹھاتا ہے، گندم نہ خریدنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا،پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں روٹی،آٹا اورگندم کے نرخ نہیں بڑھے، احتساب اورجوابدہی کے احساس کے بغیرگڈ گورننس ممکن نہیں،مہنگائی کی شرح 40فیصد سے 4فیصد تک آگئی، سبزی،روٹی اورآٹا سستا ہونے سے غریب آدمی کا کچن آسانی سے چل سکتا ہے، خوف اورغصے سے کام نہیں لیا جاسکتا۔

انہوں نے کہاکہ بیوروکریسی کی طرف سے مثبت تعاون ملاہے، ناکامیوں کا ملبہ بیوروکریسی یا دوسروں پر ڈالنا میرا وطیرہ نہیں، پنجاب میں 30ہزار کلو میٹر طویل 1650روڈز بن رہی ہیں، ای ٹینڈرنگ کے ذریعے اربوں روپے بچائے، سپیشل افراد کیلئے ہر ای بس میں وہیل چیئر بھی مہیا کررہے ہیں۔وزیراعلی نے کہاکہ پنجاب میں جدید برن ہسپتال اورآرتھوپیڈک ہسپتال بنا رہے ہیں،پاکستان کا پہلا سرکاری کینسر ہسپتال بنے گا،کو آبلیشن مشین کے ذریعے فرسٹ سٹیج کینسرکا موثر علاج کررہے ہیں، ایئر ایمبولینس سروس کے ذریعے گولڈ ن آرمیں مریضوں کو بروقت ہسپتال منتقلی سے درجنوں جانے بچائیں، جنوبی پنجاب میں چھت سے گر کر زخمی ہونیوالی خاتون کو ایئر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیاگیا، ہارٹ سرجری کے منتظر 15ہزار بچوں کیلئے ہارٹ سرجری کارڈ پراجیکٹ شروع کیا،7 ہزارہارٹ سرجریز ہوچکی ہیں،پاکستان بھر کے بچوں کے علاج کیلئے ہزار بیڈ کا کارڈیالوجی ہسپتال بھی بنا رہے اور زراعت کو مکمل طورپر میکانائزکرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لائیوسٹاک کے فروغ کے لئے پہلی مرتبہ تین لاکھ مویشی ایڈ کیئے،تندورجاکر روٹی چیک کرنے پر مذاق بنایاگیا مگر آفس سے نہ نکلوں توحالات کا اندازہ کیسے ہو،تھرمل ایمیجنگ ڈرون کیمروں کی مدد سے سیلاب میں گیھرے لاکھوں انسانوں اورجانوروں کو بچایاگیا۔انہوں نے کہاکہ لاہور ڈویلپمنٹ پلان اورپنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت شہروں اوردیہات کی قسمت بدل جائے گی، کہتے تھے بیٹی آتی ہے تو گھر چمکاتی ہے،پنجاب میں دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام شروع کیا، صفائی کے نظام کو میکانائزیشن پر لارہے ہیں، تعلیم بہترین مساوات قائم کرتی ہے،باہر جاکرکام نہ کرنے والی خواتین کے لئے گھرمیں کاروباری مواقع فراہم کررہے ہیں۔

وزیراعلی نے کہاکہ ماحولیات کی بہتری اورتحفظ کیلئے پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں کام ہورہا ہے، سرمایہ کاروں کیلئے اکنامک زون اورانڈسٹریل سٹیٹ کے دروازے کھول دیئے،سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے فریز لینڈ بھی دینا پڑی تو دیں گے، گارمنٹس سٹی پلگ اینڈ پلے پراجیکٹ بالکل تیار ہے،جلد آغاز کریں گے، پنجاب میں 2400میگاواٹ بجلی ہے۔انہوں نے کہاکہ بجلی کے یونٹ کو 16/17روپے لانا چاہتی ہوں، کھربوں روپے کے پراجیکٹس چل رہے ہیں لیکن کرپشن کی کوئی شکایت نہیں، انشا اللہ پانچ سال میں پنجاب کرپشن فری ہوگا،میرے بارے میں جلسوں میں رکیک جملے کہے گئے،والد کیساتھ کھڑے ہونے پر جیل میں ڈال دیا گیا،

آج مقافات عمل ہے،وہ جانتے تھے ان کو نہ گرایاگیاتو ہماری جگہ نہیں بنتی،دنیا میں پاکستان اورپاکستان کے لوگوں کو بدنام کیاگیا۔وزیراعلی نے کہاکہ سیاسی اخلاقیات کا معیار مقرر کرنا چا ہیے،الزام لگایا ہے تو ثابت بھی کریں، گالم گلوچ اورالزام تراشی کاجواب پرفارمنس کے بیانیے سے دیں گے، سکولوں اورکالجوں کو ڈرگ فری بنا رہے ہیں، اے ڈی یو نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے وفد کے سربراہ نے شاندار میزبانی پر وزیراعلی کا شکریہ ادا کیا۔