
سابق گورنر پنجاب پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود نے چیف کوارڈینیٹر جنوبی پنجاب عبدالقادرشاہین کے ہمراہ جنوبی پنجاب کے تنظیمی عہدیداران اور میڈیا کے سئینیر صحافیوں کے مختلف وفود سے مخدوم ھاوس لاہور میں ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت آصف علی زرداری کے کامیاب دورہ چین، پرتگال، اور ترکیہ کے صدر کی پاکستان آمد— کوخطے میں استحکام اور قومی ترقی کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے، انہوں نے کہا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری کا حالیہ دورہ چین، پرتگال، اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی پاکستان آمد کے دوران ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتیں نہ صرف پاکستان کی داخلی ترقی بلکہ خطے میں امن و استحکام، تجارتی تعاون، اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ ان سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے پیپلز پارٹی قیادت کی جاری پالیسیوں نے قومی مفاد، اقتصادی بہتری، اور عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے پانچ روزہ دورہ چین کے دوران چینی قیادت، بشمول صدر شی جن پنگ اور وزیر اعظم لی چیانگ، سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے دوسرے مرحلے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں صنعتی زونز کے قیام، زراعت، آئی ٹی، اور توانائی کے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔ ان مذاکرات سے پاکستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی، روزگار کے نئے مواقع اور صنعتی ترقی کی راہ ہموار ہو گی۔
مخدوم احمد محمود کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ترقی پسند خارجہ پالیسی کی وکالت کی ہے، اور چین کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا اسی وژن کا تسلسل ہے۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف اقتصادی میدان میں پاکستان کو مضبوط کرے گی بلکہ خطے میں جیو پولیٹیکل استحکام میں بھی معاون ثابت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ پرتگال میں صدر زرداری کی پرتگالی صدر مارسیلو ریبیلو ڈی سوسا سے ملاقات دوطرفہ تعلقات کو وسعت دینے کے تناظر میں اہم رہی۔ دونوں ممالک نے اقتصادی، تعلیمی، اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پیپلز پارٹی کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ متوازن تعلقات پر مبنی رہی ہے۔ یورپی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کو بڑھانے سے پاکستانی برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کے مواقع میں وسعت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کو تقویت ملے گی۔
جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کا پاکستان کا حالیہ دورہ پاکستان-ترکیہ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کا باعث بنا۔ دونوں ممالک نے 24 معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن کے تحت دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ شراکت نہ صرف اقتصادی میدان میں ترقی کا باعث بنے گی بلکہ دفاعی تعاون اور علاقائی استحکام کے لیے بھی سودمند ثابت ہو گی۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ اسلامی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات کی داعی رہی ہے۔ ترکیہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نہ صرف معاشی بلکہ جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھی پاکستان کے لیے فائدہ مند ثابت ہو گی۔
مخدوم سید احمد محمود کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت اقتصادی چیلنجز، مہنگائی، اور بے روزگاری جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جنہیں حل کرنے کے لیے پیپلز پارٹی قیادت عملی اقدامات کر رہی ہے۔ صدر زرداری کے یہ کامیاب غیر ملکی دورے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے مواقع میں اضافہ، اور سفارتی سطح پر پاکستان کو ایک متحرک اور فعال ریاست کے طور پر پیش کرنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ ترقی، عوامی فلاح، اور قومی استحکام کی پالیسی پر عمل پیرا رہی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی سفارتی مہارت اور عملی سیاست نے ہمیشہ پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔
سابق گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ عالمی حالات اور خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کے پیش نظر، پاکستان کا ایک متحرک خارجہ پالیسی اپنانا ناگزیر ہے۔ چین، ترکیہ، اور یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون پاکستان کو نہ صرف ایک معاشی حب کے طور پر ابھارے گا بلکہ خطے میں امن، استحکام، اور ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ سفارتی کامیابیاں نہ صرف پیپلز پارٹی کی دور اندیش قیادت کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس امر کی بھی گواہ ہیں کہ پاکستان ایک مستحکم، متحرک اور ترقی کی راہ پر گامزن ملک ہے۔
