پاکستان پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد کی لاہور پریس کانفرنس میں نو مئی کے واقعات پر مذمتی قرارداد منظور

لاہور : صدر پی پی پی جنوبی پنجاب مخدوم احمد محمود کی سربراہی میں جنوبی پنجاب کے سئینیر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، چیف کوارڈینیٹر عبدالقادرشاہین، سید عرفان گردیزی، ملک ریاض حسین سامٹیہ، چوہدری ڑبیر، میڈیا کوارڈینیٹر جنوبی پنجاب محمد سلیم مغل، جنرل سیکرٹری علماء ونگ جمیل احمد نورانی، اور افنان صادق بٹ نے لاہور کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس میں نو مئی کے واقعات پر مذمتی قرار داد منظور کی گئی، قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نو مئی کو ملک کے مختلف شہروں میں پیش آنے والے واقعات کی پرزور اور بھرپور مذمت کرتی ہے، قرار داد میں سرگودھا میں یادگار شہداء کو نقصان پہنچانا، جناح ہاؤس کو نذرآتش کرنا، دیر میں ایف سی قلعے میں توڑ پھوڑ کرنا، مردان میں کرنل شیر خان کے مجسمے کو توڑنا، سوات موٹر وے ٹول پلازہ کو جلادینا، راولپنڈی کے میٹرو اسٹیشن اور پشاور کے ریڈیو اسٹیشن کو خاکستر کردینا، پشاور میں چاغی ماڈل اور ایدھی ایمبولینس کو تباہ کرنا، کراچی میں مسافر بسوں کو نذرآتش کرنا جبکہ ملک بھر میں نجی، سرکاری اور فوجی املاک اور حساس تنصیبات پر حملوں کو ریاستِ پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کو دہائیوں تک سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا تاہم پی پی پی نے اپنی لیڈرشپ کی ہدایات کی پیروی کرتے ہوئے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہوا، میر شاہنواز بھٹو اور میر مرتضی بھٹو کو شہید کیا گیا، شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو لہولہان کردیا گیا مگر پاکستان پیپلزپارٹی نے اس سب کے باوجود پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا جو تمام جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کے لئے ایک روشن مثال ہے، قرار داد میں پی ٹی آئی دور حکومت میں پیرانہ سالی میں سابق صدر آصف علی زرداری کی اسیری جبکہ پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور کی نصف شب کو اسپتال سے جیل منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ کسی بھی سیاسی جبر کے نتیجے میں پاکستان پیپلزپارٹی نے ملک اور ملکی اداروں کے خلاف کبھی جتھہ بندی نہیں کی، قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نو مئی کے واقعات کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لاکر قرارواقعی سزا دی جائے۔
مخدوم احمد محمود نے پریس کانفرنس کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری لاہور میں موجود ہیں اور ہماری ملاقاتیں جاری ہیں سینٹرل ہنجاب اورساوتھ پنجاب کےلوگوں سے پارٹی کے حوالے سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے، پیپلزپارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر غور ملک کے اندرونی و بیرونی حالات پر مشاورت کی گئی ہے، پیپلز پارٹی میں بہت سے لوگوں نے شمولیت کی ہے، ہر جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگ پیپلز پارٹی میں آ رہے ہیں ابھی جو بھی مشاورت ہو گی اس پر بات کریں گے، ہم انفرادی فیصلے نہیں کرتے اتحادیوں سے مل کر بات کرتے ہیں،
انہوں نے ڈائیلاگ پر زور دیا کہ مذاکرات ہونے چاہئیے تحریک انصاف باضد تھی کہ اسمبلی تحلیل کریں پھر بات کریں گے ہم نے انہیں کہا کہ پنجاب اسمبلی اور کے پی پے توڑ کر ہم نے تحریک انصاف کو کہا تھا کہ انہوں نے غلطی کی ہے، پارٹی کے اندر عسکری ونگ نہیں ہونے چاہئیے پوری دنیا نو مئی کے واقعات کی مذمت کر رہی ہے، قانون اپنا راستا خود لے گا ہم نے فیصلہ نہیں کرنا کون مائنس ہوگا کون نہیں تحریک انصاف والے خود بھی اب مزمت کر رہے ہیں عسکری اور دیگر اداروں پر حملہ ملک پر حملے کے مترادف ہیں، ‏جو بھی ہمارے پاس آ رہا ہے وہ اپنی مرضی کے مطابق آ رہے ہیں ہم سیاسی شخصیات کو دیکھ کر فیصلہ کریں گے کس نے پارٹی کے بارے میں کیا باتین کی ہیں،۔۔