ریاض۔11نومبر (اے پی پی):عرب اور اسلامی ممالک کے سربراہان نے غزہ میں گزشتہ پانچ ہفتوں سے جاری اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملوں کو برداشت کرنے والے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے 11ہزار فلسطینیوں کے قتل کی شدید مذمت کی ہے جبکہ اس مسئلے کے فوری حل اور انسانی بحران کو ختم کرنے پر زور دیا ہے۔
ہفتہ کو سعودی عرب کی میزبانی میں مشترکہ عرب اسلامی غیر معمولی سربراہی اجلاس منعقد ہوا جس میں غزہ کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کے لئے عرب اور اسلامی دنیا کے رہنما اکٹھے ہوئے ۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ۔
انہوں نے اس صورتحال کو انسانی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اسرائیل کی جانب سے عالمی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے میں ناکامی کو ظاہر کرتا ہے ۔سعودی ولی عہد نے 1967کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کے علاوہ اسرائیلی قبضے اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کی بحالی پر زور دیا ۔
فلسطین کے صدر محمود عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کو نشانہ بنانے کے علاوہ اسرائیلی فورسز مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی چھاپے مار رہی ہیں ۔ انہوں نے اسرائیل کی جارحیت ،مقدس مقامات پر قبضے ، ان کی بے حرمتی کے خاتمے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کسی بھی فوجی اور سیکیورٹی حل کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ وہ غزہ یا مغربی کنارے سے اپنے لوگوں کو بے گھر کرنے کی کسی بھی کوشش کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔
غزہ کی پٹی ریاست فلسطین کا لازمی جزو ہے ۔ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ فلسطین میں دنیا کی تاریخ کے بدترین جرائم کا ارتکاب کیا جارہاہے ، تمام عالم اسلام کو اس مسئلے کے حل کے لئے متحد ہونا چاہئے ۔ او آئی سی کو مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کے لئے اہم کردار ادا کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ صیہونی حکومت غزہ میں قتل عام اور تباہی کے راستے پر گامزن ہے جو سفاکیت اور بین الاقوامی قوانین کا مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں ، غزہ دنیا کی سب سے بڑی جیل ہے ۔
انہوںنے کہاکہ غزہ کے باشندوں کے خلاف ہر قسم کے ممنوعہ اسلحہ اور ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں اسرائیلی وحشیانہ جارحیت سے پانچ ہفتوں میں 11ہزار نہتے شہری مارے گئے ۔ انہوں نے شہریوں کا قتل عام بند کرنے اور انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا ۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ قتل محاصرے اور فلسطینیوں کی زبردستی نقل مکانی کے ذریعے اجتماعی سزا کا تصور قابل مذمت ہے اسے اپنے دفاع سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا ، فوری طور پر یہ بربریت روکی جائے ۔
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں ، معصوم بچوں کی لاشیں بکھری دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ، غزہ میں اسرائیلی بمباری پر دنیا کی خاموشی افسوسناک ہے ، اسرائیلی حکام غزہ میں ہونے والے مظالم کے ذمہ دار ہیں ، مسئلے کے پر امن حل کی تلاش کے لئے عالمی امن کانفرنس بلائی جائے ۔ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطین کے بحران کے خاتمے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے اور اسرائیل کو جارحیت جاری رکھنے سے روکے ۔
اسرائیل نے 7اکتوبر کے بعد غزہ کی پٹی پر بے دریغ اور اندھا دھند فضائی اور زمینی حملے شروع کر رکھے ہیں جن میں ہسپتالوں ، عبادت گاہوں اور گھروں کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم ازکم 11078فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں 4506بچے اور 3027خواتین شامل ہیں ۔غیر معمولی سربراہ اجلاس میں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں ۔