سندھ طاس معاہدہ : پاکستان آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن سفارتی و قانونی اقدامات اٹھائے گا، رانا مشہود احمد خاں

لاہور۔30مارچ (اے پی پی):چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی بھارتی ہٹ دھرمی ہے، آبی تنازع دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے ،پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کو ہٹ دھرمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی معاہدہ ہے، جس کی پاسداری دونوں ممالک پر لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1960 میں عالمی بنک کی ثالثی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدہ طے پایا ،معاہدہ کے تحت مشرقی دریا ستلج، بیاس اور راوی پر بھارت جبکہ مغربی دریا سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا اور کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا اقدام پاکستان کی آبی سلامتی، غذائی پیداوار اور توانائی کے استحکام کے لیے بڑا خطرہ ہے جس کی ہر گز اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھائے گا اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور بھارت کو معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنائیں تاکہ خطے میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جا سکے ۔